سی پی ایم کے آنجہانی قدآور لیڈر بنوئے کونار کے بڑے بیٹے سکانتو کونار کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے پارٹی کے اندرونی خلفشار اور نچلی سطح کے کارکنوں کی ناراضگی کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ سکانتو کونار نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا: "مغربی بنگال کے محنت کش عوام کا ایک بڑا حصہ بائیں بازو سے منہ موڑ چکا ہے۔ ان کے دل کی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔" اس پوسٹ نے نچلی سطح کے کارکنوں میں دہکتی آگ پر گھی کا کام کیا۔بردوان-1 بلاک کے سی پی ایم کارکن روپ کمار گپتا نے اس پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے قیادت کو چیلنج کیا.۔ انہوں نے لکھا کہ کبھی جیوتی بسو کہتے تھے کہ 5 فیصد غریب ہمارے ساتھ نہیں ہیں، انہیں لانا ہے۔ آج حال یہ ہے کہ شاید صرف 5 فیصد غریب ہی ہمارے ساتھ بچے ہیں۔ روپ کمار کے مطابق، موجودہ قیادت میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ وہ کسی گاوں کے 10-15 مقامی لوگوں کو لے کر ایک جلوس نکال سکے۔ غریب عوام کا بڑا حصہ اب ترنمول یا بی جے پی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی کاغذات پر 100 فیصد بوتھ ایجنٹس کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حقیقت میں کسی کو بھی بٹھا کر پریذائیڈنگ آفیسر سے سرٹیفکیٹ لے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قیادت حکمراں جماعت کے ساتھ کسی خفیہ سمجھوتے کے تحت ایسا کرتی ہے؟ انہوں نے لکھا کہ پارٹی اپنی غلطی ماننے کے بجائے عوام کو غلط قرار دیتی ہے یا بیوروکریسی پر الزام لگاتی ہے۔ بوتھ کمیٹی اور ایجنٹس نہ ہونے کے باوجود پارٹی جیت کی امید لگائے بیٹھی رہتی ہے۔ انہوں نے سکانتو کونار کی بات کی تائید کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ پسماندہ طبقے کا ایک بڑا حصہ بائیں بازو سے دور ہو گیا ہے اور اب انہیں واپس لانا ہی اصل چیلنج ہے۔اگرچہ ضلعی سطح کے بڑے لیڈر اس "فیس بک انقلاب" پر عوامی سطح پر کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں، لیکن کارکنوں کا یہ غصہ پارٹی کے اندرونی بحران کی عکاسی کر رہا ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا