بالورگھاٹ : سرسوتی پوجا کون کرے گا؟ بالورگھاٹ میں ترنمول کے دو گروپوں کے درمیان زبردست بے چینی پیدا ہو گئی۔ ترنمول چھاترا پریشد کے دو گروپوں کے درمیان شدید جھگڑا پھر منظر عام پر آیا۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اکثر ہاتھا پائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہوتے رہے۔ آخر کاربالورگھاٹ تھانے کی پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ بعد ازاں پولیس کی مداخلت سے حالات معمول پر آگئے۔ جب اس بے مثال بدامنی کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو بالورگھاٹ کالج کے پرنسپل پنکج کنڈو نے میڈیا کے سامنے اپنا منہ نہیں کھولنا چاہا۔ کئی بار فون کرنے کے بعد بھی اس نے فون نہیں اٹھایا۔کالج ذرائع کے مطابق، موجودہ ضلع صدر سرنجئے سانیال اور سابق ضلع صدر امرناتھ گھوش کے پیروکاروں کے درمیان سرسوتی پوجا پر کس کا کنٹرول ہوگا، اس بات کو لے کر کافی عرصے سے سرد جنگ چل رہی تھی۔ تنازعہ کو حل کرنے کے لیے جمعرات کی شام کالج کے پرنسپل پنکج کنڈو کے گھر پر دونوں فریقوں کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ لیکن بات چیت کے درمیان ہی دونوں پارٹیوں میں جھگڑا عروج پر پہنچ گیا۔ پرنسپل کے گھر کے اندر جھگڑا اور زبانی تکرار شروع ہوگئی۔ جس نے پرنسپل کے گھر سے باہر آتے ہی بڑی شکل اختیار کر لی۔الزامات کے مطابق دونوں طرف سے کالج کے گیٹ کے باہر احتجاج شروع ہو گیا۔ ایک فریق نے دوسری طرف کی موٹر سائیکل کی توڑ پھوڑ کی اور اسے نالے کے پاس پھینک دیا۔ اس وقت ضلع صدر سرنجئے سانیال خود وہاں موجود تھے اور احتجاج کیا۔ علاقہ کافی دیر تک گرم رہنے سے عام طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
Source: Social Media
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا