نئی دہلی، 16 فروری :سپریم کورٹ نے پیر کے روز مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے 'خصوصی جامع نظرثانی' (ایس آئی آر) کے دوران 'منطقی بے قاعدگی' کی شق کو شامل کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وِپُل پنچولی پر مشتمل بنچ نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت درخواست دائر کرنے کے درخواست گزار کے فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا اس نوعیت کی شکایت کے لیے براہِ راست عدالتی مداخلت ضروری ہے ؟ بنچ نے درخواست گزار کو اس کے بجائے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ سماعت کے دوران بنچ نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ خاندانی شناخت جیسے ذاتی تفصیلات سے متعلق اٹھائے گئے معاملات کا فیصلہ آرٹیکل 32 کے تحت دائر درخواست میں نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درخواست محمد فرہاد نواز کی جانب سے دائر کی گئی تھی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے تحت 'منطقی بے قاعدگی' کی شق کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا م¶قف تھا کہ یہ معیار آئین کے آرٹیکل 14 اور 324 کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے متنازع شق کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کو بھی چیلنج کیا تھا۔ گزشتہ سماعتوں (جنوری 2026) میں عدالت نے کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ شہریوں کو شواہد پیش کرنے اور اپنے حقِ رائے دہی کے دعوے کا موقع دینے کے لیے گرام پنچایت بھونوں اور بلاک دفاتر میں 'منطقی بے قاعدگی' سے متعلق فہرستیں آویزاں کر کے شفافیت کو یقینی بنائے ۔
Source: UNI NEWS
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا