Bengal

ایس آئی آر سے شروع، گنتی پر ختم؛ تین مراحل کے 'چیلنجز' کو سنبھال کر اصل 'چیمپیئن' کمیشن بن گیا!

ایس آئی آر سے شروع، گنتی پر ختم؛ تین مراحل کے 'چیلنجز' کو سنبھال کر اصل 'چیمپیئن' کمیشن بن گیا!

ان تین افسران کے سامنے لفظی معنوں میں ایک بڑا 'چیلنج' تھا۔ کیونکہ پہلے ایس آئی آر مرحلے میں اور بعد میں انتخابی عمل کے دوران، ریاست کی حکمراں جماعت اور ریاستی حکومت ہر قدم پر الیکشن کمیشن کو چیلنج کر رہی تھی۔ کبھی زبانی، کبھی سوشل میڈیا پر اور کبھی براہ راست سپریم کورٹ میں۔ ریاست بھر میں یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا اتنے چیلنجز کے باوجود کمیشن مغربی بنگال میں منصفانہ انتخابات کرا سکے گا؟ کیا ووٹنگ آزادانہ اور پرامن ہوگی؟ کمیشن نے جانی نقصان سے پاک اور تقریباً بغیر کسی خون خرابے کے انتخابات کرا کے اس امتحان میں 'لیٹر مارکس' حاصل کیے۔ آخری خدشہ گنتی کے عمل کے پرامن ہونے کے بارے میں تھا، لیکن پیر کو گنتی کے دوران کمیشن کی بنائی گئی 'لوہے کی دیوار' نے ان خدشات کو بھی جلد ہی ختم کر دیا۔ ایسے پرامن انتخابات کا سہرا یقیناً الیکشن کمیشن کے سر جاتا ہے۔ 'خوف و ہراس سے پاک' ووٹنگ کرانے کے کمیشن کے عزم کی بدولت دونوں مراحل میں ووٹنگ کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ لیکن دونوں مراحل میں موت کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس بار نہ صرف ووٹنگ کے دن، بلکہ انتخابی مہم کے دوران بھی سیاسی تشدد کے نتیجے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ جبکہ پانچ سال قبل 2021 کے اسمبلی انتخابات میں مغربی بنگال میں 24 جانیں گئی تھیں اور 2016 میں سات افراد انتخابی تشدد کا شکار ہوئے تھے۔ اس بار یہ تعداد صفر ہے۔ ووٹنگ کے دن کہیں بھی بمباری کا واقعہ پیش نہیں آیا، جبکہ پانچ سال پہلے کے الیکشن میں 60 سے زائد بمباری کے واقعات ہوئے تھے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments