شمالی 24 پرگنہ: ایس آئی آر کی دستاویزات کی تصدیق کے لیے ججز اس وقت مصروف ہیں۔ آئندہ 9 مارچ تک ججز عدالتوں میں نہیں آئیں گے، وہ ایس آئی آر کا کام مکمل کرنے میں مصروف رہیں گے۔ باراسات عدالت میں 15 ججز کی عدالتیں لگتی ہیں۔ ایک ڈسٹرکٹ جج سمیت کل 8 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ایس آئی آر کے کام کے لیے چلے گئے ہیں۔ ان عدالتوں کا انتظام باقی ماندہ ججز سنبھالیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف چھ ججز 15 کمرہ عدالتوں کا نظام سنبھالیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ پی پی (پبلک پراسیکیوٹر) سے لے کر عام وکلاء تک سبھی سنگین مسائل کا ذکر کر رہے ہیں۔ جن کے مقدمات چل رہے ہیں، وہ زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ کسی کا مقدمہ فیصلے کے قریب ہے تو کسی کے گواہ کے بیان قلمبند ہونے ہیں۔ بہت مشکل سے گواہ لائے گئے لیکن جج کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان تمام مقدمات کی سماعت بند ہو رہی ہے۔ وکلاء اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہ مقدمات دوبارہ باقاعدہ طور پر کب شروع ہوں گے۔ پبلک پراسیکیوٹر وشوجیت رائے چودھری کا کہنا ہے، "فی الحال 9 تاریخ تک تو مسئلہ ہے ہی، یہ مدت بڑھ بھی سکتی ہے۔ کچھ مقدمات کے حوالے سے تو ہائی کورٹ کی ہدایات بھی موجود ہیں۔ تمام مقدمات متاثر ہو رہے ہیں۔ جب تک ججز ایس آئی آر کا کام کریں گے، وہ عدالت سے غیر حاضر رہیں گے۔ گواہ آ کر واپس جا رہے ہیں۔"
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا