مالدہ کے موتھاباری واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن نے ضلع میں سکیورٹی اور انتخابی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال نے پیر کے روز مالدہ کا دورہ کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور انتظامیہ کے ساتھ اہم میٹنگز کیں۔یکم اپریل کو ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کے خلاف احتجاج کے دوران ججوں کو یرغمال بنانے اور ان پر حملے کے واقعے نے کمیشن کو الرٹ کر دیا ہے۔ اس کیس کی جانچ این آئی اے کر رہی ہے اور اب تک 54 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔منوج اگروال نے واضح کیا کہ پولنگ بوتھ کے 100 میٹر کے دائرے میں صرف مرکزی افواج تعینات ہوں گی۔ مرکزی فورسز کی اجازت کے بغیر کسی کو بوتھ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریاستی پولیس صرف امن و امان کی ذمہ دار ہوگی۔ہر اسمبلی حلقے میں تین بڑی اسکرینیں لگائی جائیں گی جہاں سے لمحہ بہ لمحہ کی نگرانی ہوگی۔ مانیٹرنگ ٹیموں کو 100 فیصد الرٹ رہنے اور فوری رپورٹ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ الیکشن سے قبل کچھ تھانوں کے او سیز کو معطل کیا گیا ہے۔ سی ای او نے واضح کیا کہ "قانون سے اوپر کوئی نہیں" اور کسی بھی شکایت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔منوج اگروال نے واضح کیا کہ اگر کوئی مہاجر مزدور واپس نہیں آسکتا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔ مزید برآں، سیوک والینٹیئرز کو انتخابی ڈیوٹی سے مکمل طور پر دور رکھا جائے گا۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ انتخابات پرامن اور شفاف ہوں گے، لہذا کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی بوتھ پر زیادہ ہنگامہ ہوا تو وہاں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا جا سکتا ہے۔الیکشن کمیشن کا یہ سخت گیر رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مالدہ میں موتھاباری جیسے کسی بھی دوسرے واقعے کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ