ضلع شمالی 24 پرگنہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کے باہر ان دنوں ہزاروں لوگوں کا ہجوم امڈ آیا ہے، جہاں لائن پانچویں منزل سے شروع ہو کر باراسات کورٹ اور بس اسٹینڈ تک جا پہنچی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے 'ڈیلیٹ' یا خارج کر دیے گئے ہیں۔ ان پریشان حال شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ کسی کا دعویٰ ہے کہ 2002 کی لسٹ میں ان کے والدین کے نام موجود تھے لیکن اب غائب ہیں، تو کسی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام ضروری دستاویزات ہونے کے باوجود انہیں 'زیرِ سماعت' قرار دے کر لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ اب یہ لوگ بی ایل اے کے ذریعے ڈی ایم آفس میں دوبارہ نام درج کروانے کی درخواستیں جمع کروانے کے لیے گھنٹوں کڑی دھوپ میں کھڑے ہیں۔ لائن میں کھڑے ایک شہری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا، ہماری زندگی برباد ہو گئی ہے۔" وہیں ایک معمر خاتون، جن کی عمر ریکارڈ میں 105 سال دکھائی گئی ہے، نے بتایا کہ سماعت پر بلائے جانے اور پرانے ثبوت دکھانے کے باوجود ان کا نام کاٹ دیا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمل نے ان کی زندگیوں میں طوفان برپا کر دیا ہے اور اب انہیں صرف خدا اور الیکشن کمیشن سے ہی امید ہے۔ اگرچہ ان درخواستوں کے بعد نام دوبارہ شامل ہونے کے بارے میں سبھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں، لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق ہر کوئی اس امید میں لائن میں لگا ہے کہ شاید ان کی شہریت اور ووٹ کا حق محفوظ ہو جائے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا