سنگور14جنوری : سنگور میں وزیر اعظم نریندر مودی کے مجوزہ جلسے نے ریاست کی سیاست میں گرمجوشی پیدا کر دی ہے۔ بی جے پی کارکنان وزیر اعظم کے جلسے کی دعوت دینے کے لیے عوام کے گھر گھر جا رہے ہیں۔ اس جلسے کے لیے خود کسانوں نے اپنی زمین دی ہے، اور اب وہی کسان یہاں صنعت (انڈسٹری) لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت سوکانتو مجمدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس زمین پر صنعت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو ٹاٹا کی واپسی ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ایک طبقہ مانتا ہے کہ 34 سالہ بائیں بازو (لیفٹ فرنٹ) کے قلعے کو ہلانے میں سنگور کی تحریک ایک اہم موڑ تھی۔ اس وقت کی بائیں بازو کی حکومت نے سنگور میں ٹاٹا نینو کا کارخانہ لگانے کے لیے کسانوں سے زمین حاصل کی تھی۔ تاہم، اس وقت اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے موجودہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ ممتا کا دعویٰ تھا کہ سی پی ایم نے کسانوں سے زبردستی زمین چھینی ہے۔یہ تنازع اتنا بڑھا کہ ٹاٹا کو سنگور چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ موجودہ اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری، جو اس وقت ترنمول میں تھے، ممتا بنرجی کے ساتھ اس تحریک میں شامل تھے، لیکن اب انہوں نے اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔
Source: PC: tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا