سلی گوڑی میں 'ممتا مندر' کا رنگ اور نام تبدیل ہونے پر سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد، سلی گوڑی کے وارڈ نمبر 34 میں واقع اس فلاحی مرکز کو لے کر بی جے پی اور ٹی ایم سی آمنے سامنے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے دور میں اس عمارت کا رنگ سرکاری تھیم کے مطابق نیلا اور سفید تھا اور اس کا نام 'ممتا مندر' رکھا گیا تھا۔ اب اسے بھگوا (نارنجی) رنگ میں رنگ دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر اس کا نام بدل کر 'رام بھون' رکھ دیا گیا ہے۔ بی جے پی لیڈر شیامل وشوا شرما کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی فعال فلاحی مرکز نہیں تھا بلکہ یہاں غیر سماجی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق ترنمول کے دور میں اس جگہ پر قبضہ کیا گیا تھا۔سینٹر کے چیئرمین تانڈو مکھوپادھیائے کا کہنا ہے کہ یہ ایک سماجی بہبود کا مرکز تھا جسے سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے زبردستی قبضے میں لیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں ہنگامہ آرائی ہوئی، جس کے بعد نیو جلپائی گوڑی تھانے کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ علاقے میں اب بھی تناو برقرار ہے۔مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد ریاست کے مختلف حصوں سے عمارتوں کے رنگ بدلنے اور نام تبدیل کرنے کی ایسی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
سلی گوڑی میں 'ممتا مندر' کا رنگ اور نام تبدیل ہونے پر سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد، سلی گوڑی کے وارڈ نمبر 34 میں واقع اس فلاحی مرکز کو لے کر بی جے...
Source: PC-sangbadpratidin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments