سلیگوڑی: برسوں پرانا مطالبہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے۔ بنگال انتخابات سے قبل گورکھا لینڈ کا مسئلہ دوبارہ گرم ہو گیا ہے۔ پیر کے روز بی جے پی کے کل ہند عہدیدار نتن نوین کے ساتھ ایک میٹنگ میں گورکھا نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ اگر علیحدہ ریاست 'گورکھا لینڈ' ممکن نہیں ہے، تو کم از کم شمالی بنگال کو مرکزی زیرِ انتظام علاقہ قرار دیا جائے۔ اس میٹنگ کے اہم نکات درج ذیل ہیں: بڑا مطالبہ: گورکھا برادری نے پہاڑی علاقوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2007 کی تحریک کے بعد 'جی ٹی اے' کی تشکیل سے بھی ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ لہٰذا، اب وہ مستقل حل چاہتے ہیں۔ بی جے پی کا موقف: میٹنگ کے بعد دارجلنگ کے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ راجو بستا نے دعویٰ کیا کہ اگر 2026 میں بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے، تو پہاڑی مسائل کا مستقل حل نکال لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "لوگوں کو اپنا دکھ بیان کرنے کی آزادی ہے اور بی جے پی چاہتی ہے کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔" سیاسی پیچیدگی: ریاست کی تقسیم کا معاملہ بنگال بی جے پی کے لیے بھی سیاسی طور پر حساس ہے، لیکن سلیگوڑی کے بی جے پی ایم ایل اے شنکر گھوش کا کہنا ہے کہ پارٹی توازن برقرار رکھتے ہوئے پہاڑ کے مسائل کا حل تلاش کرے گی۔ گورکھا نمائندوں کا ردعمل: دارجلنگ کے بی جے پی ایم ایل اے نیرج جمبا نے واضح کیا کہ جہاں گورکھا ہوں گے، وہاں گورکھا لینڈ کی بات لازمی ہوگی۔ واضح رہے کہ پہاڑی علاقہ طویل عرصے سے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا ساتھ دیتا رہا ہے، لیکن وہاں کے باشندوں کا بارہا یہ گلہ رہا ہے کہ ان کے مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ اب انتخابات سے قبل نتن نوین کی اس میٹنگ نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا