سلی گوڑی 13جنوری : گھر گھر میں بخار پھیلنے کی وجہ سے پے در پے اموات ہونے لگیں۔ آج سے تقریباً 25 سال پہلے،سلی گوڑی کے لوگ کچھ سمجھ پاتے، اس سے پہلے ہی 49 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ ڈاکٹر اس صورتحال کو سمجھنے میں ناکام رہے اور اسے 'سلی گوڑیبخار' کا نام دیا۔ 2006 میں معلوم ہوا کہ وہ ہندوستان میں نیپا وائرس کا پہلا حملہ تھا۔ اس وقت ڈاکٹروں اور طبی عملے سمیت بہت سے لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اب بنگال میں دوبارہ یہ خوف پھیل گیا ہے کیونکہ دو افراد اس وائرس کا شکار پائے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس وقت بنگال میں نیپا کی انفیکشن بنگلہ دیش سے آنے والے بخار کے ایک مریض کے ذریعے پھیلی تھی۔ سلیگڑی میں اموات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ نامعلوم بخار کی وجہ سے ہونے والی ان اموات کی ابتدا میں شناخت ہی نہیں ہو سکی تھی۔ شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ تجربہ کووڈ سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔ اس وقت بہت سے ڈاکٹر، تاجر اور عوامی نمائندے راتوں رات شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ تب اس وقت کے وزیر برائے بلدیات و شہری ترقی، اشوک بھٹاچاریہ نے شہر میں محاذ سنبھالا تھا۔ انہیں آج بھی وہ وقت اچھی طرح یاد ہے۔ وہ بتاتے ہیں، "ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈاکٹر اور تاجر شہر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کو حوصلہ دینا سب سے اہم کام تھا۔ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔" انہوں نے بتایا کہ متاثرین کو بخار آتا تھا اور کپکپی طاری ہوتی تھی۔ بہت بعد میں جا کر پتا چلا کہ یہ نیپا وائرس تھا۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا