تالڈانگرا دیہی اسپتال کے ایک ڈاکٹر اور بلاک میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ کے خلاف اپنی ہی ایک ساتھی خاتون سے شادی کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کرنے کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے اسپتال کے ماحول اور محکمہ صحت کے اندر کھلبلی مچا دی ہے۔ متاثرہ خاتون اسی اسپتال میں بطور فزیوتھراپسٹ کام کرتی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ایک ہی جگہ کام کرنے کی وجہ سے ان کے اور بی ایم او ایچ کے درمیان قریبی تعلقات استوار ہوئے۔ ڈاکٹر نے مبینہ طور پر شادی کا وعدہ کر کے ان کے ساتھ طویل عرصے تک جسمانی تعلقات قائم کیے، لیکن جب انہوں نے شادی کے لیے دباو ڈالا تو ڈاکٹر نے انکار کر دیا۔ متاثرہ نے تالڈانگرا تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی ہے، جس کی بنیاد پر پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ضلع کے چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ شیامل سورین نے بتایا کہ اگرچہ انہیں براہ راست تحریری شکایت نہیں ملی، لیکن متعلقہ بی ایم او ایچ نے انہیں کچھ آگاہ کیا ہے۔ حقائق جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ ملزم ڈاکٹر کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تعلقات دونوں کی باہمی رضامندی سے تھے اور اب اس ذاتی معاملے کو انتظامی رنگ دیا جا رہا ہے۔ انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ انتظامی ذمہ داریوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا