مغربی بنگال میں ایس آئی آر کو لے کر یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل کو لے کر صورتحال کافی سنگین ہو گئی ہے۔ ایک طرف کام کے بوجھ کی وجہ سے بی ایل او (BLO) استعفیٰ دے رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں، تو دوسری طرف وقت پر لسٹ جاری کرنے کا چیلنج برقرار ہے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق، حتمی ووٹر لسٹ ۱۴ فروری ۲۰۲۶ کو شائع ہونی ہے۔ اگرچہ بی ایل اوز کے استعفوں اور احتجاج سے کام متاثر ہوا ہے، لیکن کمیشن نے ابھی تک تاریخ میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کمیشن کی کوشش ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ کام مکمل کر لیا جائے۔ گھر گھر جا کر معلومات کی تصدیق کے لیے دیا گیا وقت بہت کم ہے۔کام کے دباو کی وجہ سے ریاست میں کئی بی ایل اوز کی موت اور خودکشی کی خبروں نے غم و غصے کو بڑھا دیا ہے۔ ایپ کا سرور ڈاون ہونا اور ذاتی موبائل نمبر عام ہونے جیسے مسائل پر بھی اعتراضات ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں بی ایل اوز نے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کے لیے استعفیٰ دے دیا ہے۔کمیشن نے واضح کیا ہے کہ انتخابی ڈیوٹی کے دوران استعفیٰ قبول کرنا قانونی طور پر پیچیدہ ہے اور اس پر تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔جہاں بی ایل اوز نے کام چھوڑا ہے، وہاں متبادل عملے کے ذریعے کام مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکمران جماعت ترنمول کانگریس نے اس عمل کو غیر منصوبہ بند قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ "جعلی ووٹرز" کو نکالنے کے لیے یہ نظرثانی ضروری ہے۔ اس سیاسی کھینچ تان نے بی ایل اوز پر دباو مزید بڑھا دیا ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا