Bengal

سرکاری کیمپ کے ٹھیکے پر ڈیڑھ فیصد 'کٹ منی'، ترنمول لیڈر کٹہرے میں

سرکاری کیمپ کے ٹھیکے پر ڈیڑھ فیصد 'کٹ منی'، ترنمول لیڈر کٹہرے میں

بنا رہاٹ27فروری : ترنمول کے خلاف ترنمول ہی کے الزامات؛ وہ بھی 'کٹ منی' کو لے کر۔ انتخابات سر پر ہیں، ایسے میں کیا یہ واقعہ اندرونی گروہ بندی کا نتیجہ ہے یا محض ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش؟ فی الحال یہی سوال بنا رہاٹ بلاک کے ساکوا جھورا علاقے میں گردش کر رہا ہے۔ یہاں ایک ٹھیکیدار نے ترنمول کے ریجنل پریذیڈنٹ (آنچل سبھا پتی) پر کٹ منی مانگنے کا الزام لگایا ہے، جس کی تصدیق ساکوا جھورا نمبر 1 گرام پنچایت کے ترنمول سنچالک (کنوینر) نے بھی کر دی ہے۔ انتخابات سے قبل ضلع بہ ضلع ’آمادر پاڑا، آمادر سمادھان‘ (ہمارا محلہ، ہمارا حل) مہم کے تحت کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ ان کیمپوں کے ٹھیکے دلوانے کے عوض مقامی ترنمول صدر مانس رنجن ٹھاکر ٹھیکیدار سے 'اضافی آمدنی' کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ٹھیکیدار پردیپ رائے کا دعویٰ ہے کہ: "سنچالک تشار ساہا نے رقم مانگی ہے۔ مجھے جو سرکاری پروجیکٹس ملے ہیں، ان کے بدلے پارٹی فنڈ میں ڈیڑھ فیصد رقم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹھیکیدار نے بتایا کہ وہ خود بھی ترنمول کا ہی کارکن ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سرکاری کام مکمل ہوئے، پارٹی کے دوسرے لیڈر نے اس سے کٹ منی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ جب اس حوالے سے پنچایت سنچالک تشار ساہا سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے تمام تر ذمہ داری اپنے لیڈر کے کندھوں پر ڈال دی۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments