کولکاتا12مارچ :سب کچھ ٹھیک رہا تو اگلے ہفتے بنگال اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی بنگال بی جے پی میں بغاوت شروع ہو گئی ہے! متوا اکثریتی بونگاوں سب ڈویڑن میں بی جے پی قیادت شدید اندرونی خلفشار سے دوچار ہے۔ خاص طور پر ایس آئی آر کے تناظر میں تمام جماعتوں کی نظریں بونگاوں پر ہیں۔ حتمی ووٹر لسٹ سے اس سب ڈویڑن کے تقریباً 37 ہزار لوگوں کے نام نکال دیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر پناہ گزین متوا سماج کے لوگ ہیں۔ اس صورتحال میں 2026 کے انتخابات میں متوا ووٹ کس طرف جائیں گے، اس پر بحث جاری ہے۔ اسی دوران، بی جے پی کے بونگاوں تنظیمی ضلع کے سابق صدر منسپتی دیو نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، جس سے بی جے پی قیادت شدید تذبذب کا شکار ہے۔ انہوں نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر کئی پوسٹس کیں، جن میں وہ لکھتے ہیں۔”بونگاوں ضلع میں ٹی ایم سی سے بھگائے گئے دھوکے باز ہمارے پرانے بی جے پی کارکنوں کے سر پر چڑھ کر ناچ رہے ہیں۔“باگدہ اسمبلی حلقہ کے بارے میں انہوں نے لکھا: ”باگدہ میں کچھ 'تتکال' (فوری شامل ہونے والے) بی جے پی لیڈروں نے پرانے بی جے پی کارکنوں کا گلا دبا رکھا ہے۔“ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا: ”میں بونگاوں ضلع کا پہلا صدر ہوں۔ 6 اسمبلی سیٹیں جتوانے کی وجہ سے آج میں کسی ذمہ داری پر نہیں ہوں۔ اگر تمام سیٹیں ترنمول کو چھوڑ دیتا تو شاید بہت بڑی ذمہ داری مل جاتی۔“بی جے پی کے اس سینئر رہنما کی پوسٹس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور ضلعی بی جے پی قیادت جواب دیتے ہوئے کافی مشکل میں نظر آ رہی ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا