Bengal

سنتھالی مصنف کی بنگال اور جھارکھنڈ کے دیہاتوں میں 'ڈائن جیسی بدعت کے خلاف تحریک جاری

سنتھالی مصنف کی بنگال اور جھارکھنڈ کے دیہاتوں میں 'ڈائن جیسی بدعت کے خلاف تحریک جاری

ساردا پرساد کسکو اب اس دنیا میں نہیں رہے اور نہ ہی مصنفہ مہاشویتا دیوی زندہ ہیں۔ لیکن ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، سنتھالی مصنف اور 'بنگ بھوشن' کلیندر ناتھ منڈی آج بھی بنگال اور جھارکھنڈ کے دیہاتوں میں 'ڈائن' جیسی بدعت کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 72 سالہ کلیندر ناتھ اب بھی جنگل محل کے پورولیا، بانکڑا، مغربی مدنی پور، جھارگرام اور جھارکھنڈ کے دور دراز دیہاتوں میں گھروں کے باہر بیٹھ کر اس سماجی برائی اور توہم پرستی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ وہ ان توہم پرست لوگوں کے ذہنوں میں سائنسی سوچ کا بیج بونے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس 'ڈائن' کے تصور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ حال ہی میں 21 فروری کو یومِ زبان کے موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ہاتھوں 'بنگ بھوشن' کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے کہا، "اس بار میں وزیر اعلیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ڈائن جیسی سماجی لعنت کو دور کرنے کے لیے ایک مخصوص قانون کی ضرورت ہے۔ میں نے اس تحریک کا آغاز شاعر ساردا پرساد کسکو اور مہاشویتا دیوی کی نگرانی میں کیا تھا۔ ان ہی کے ساتھ رہ کر میرا ادبی سفر شروع ہوا اور اسی ادب کی بدولت مجھے 'بنگ بھوشن' ملا، جس پر مجھے فخر ہے۔" کلیندر ناتھ منڈی پورولیا ضلع پریشد کے رکن بھی ہیں اور حال ہی میں انہیں ضلع پریشد کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی پیدائش بندوان کے سریش گوڑا گاوں میں ہوئی۔ 1980 میں ریلوے میں ملازمت شروع کرنے سے پہلے ہی وہ اس تحریک سے جڑ گئے تھے۔ انہوں نے اب تک 10 کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے ان کی کتاب 'آرسی' ڈائن جیسی سماجی برائی کے خلاف ہے اور یونیورسٹی کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ نوے کی دہائی میں اس تحریک کے دوران انہیں دیہاتیوں کے غصے کا نشانہ بھی بننا پڑا، لیکن وہ رکے نہیں۔ آج بھی وہ اپنی ٹیم کے ساتھ گاوں گاوں جا کر اس بدعت کے خلاف بیداری پھیلا رہے ہیں۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments