مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنی انتخابی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے محدود نشستوں اور مخصوص ایشوز پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ 294 اسمبلی نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے کے باوجود پارٹی نے عملی طور پر صرف تقریباً 60 نشستوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے، جبکہ انتخابی مہم بھی محدود پیمانے پر چلائی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل راہل گاندھی نے صرف ایک دن یعنی 14 اپریل کو انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق ان کی تقریر کا تقریباً 75 فیصد حصہ بی جے پی پر تنقید پر مشتمل تھا، جبکہ صرف 25 فیصد حصہ ترنمول کانگریس کے لیے مختص رہا۔ اسی طرح ووٹنگ کے دن پارٹی قیادت کی جانب سے جاری پیغامات میں بھی بی جے پی کو مرکزی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ممتا بنرجی پر براہ راست سخت حملے سے گریز کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کی قیادت نے بھی کانگریس کے بیانات پر زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی اپنی انتخابی تقاریر میں مسلسل بی جے پی کو نشانہ بناتے رہے اور کانگریس کے الزامات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے اہم قومی مسائل پر کانگریس کی حمایت کے بعد ترنمول کانگریس اور کانگریس کے درمیان تعلقات میں نرمی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے جہاں کانگریس تمام 294 نشستوں پر جارحانہ مہم چلانے کی تیاری میں تھی، اب اس نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے محدود نشستوں پر فوکس کیا ہے۔ اگرچہ کانگریس اور ترنمول کانگریس دونوں ریاست میں الگ الگ انتخابات لڑ رہی ہیں، تاہم ان کے درمیان براہِ راست سخت مقابلہ کم دکھائی دے رہا ہے۔ اسی طرح انڈیا اتحاد کے دیگر اتحادی، بشمول بائیں بازو کی جماعتیں، بھی الگ الگ میدان میں ہیں، جس سے اپوزیشن کا ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ راہل گاندھی کی شرکت انتہائی محدود رہی ہے۔ وہ پہلے مرحلے میں صرف ایک دن مہم کے لیے آئے، جبکہ دوسرے مرحلے میں بھی 25 اپریل کو ان کی صرف ایک دن کی ریلی طے ہے۔ ماہرین اس محدود شرکت کو زیادہ تر رسمی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پرینکا گاندھی اب تک انتخابی مہم سے مکمل طور پر دور رہی ہیں اور ان کے کسی ممکنہ پروگرام کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال نے پارٹی کی حکمت عملی پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مجموعی طور پر کانگریس کی یہ بدلی ہوئی حکمت عملی مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نیا رخ پیش کر رہی ہے، جہاں براہ راست مقابلے کے بجائے توازن قائم کرنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے۔ آنے والے مراحل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس حکمتِ عملی کے انتخابی نتائج پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
Source: social media
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ