ریاست میں اقتدار کی تبدیلی اور بی جے پی حکومت کی تشکیل کے عمل کے درمیان عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ بنگال کے مختلف نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں 'صحت ساتھی' کارڈ لینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں اور انجیو پلاسٹی جیسے ہنگامی کیسز والے افراد کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔متعدد نجی اسپتالوں نے یہ کہہ کر کارڈ قبول کرنا بند کر دیا ہے کہ ریاست میں حکومت بدل رہی ہے۔کینسر کے مریض، جن کا علاج طویل عرصے سے اس کارڈ کے ذریعے چل رہا تھا، اب بیچ منجدھار میں پھنس گئے ہیں۔دل کے امراض میں مبتلا مریض، جنہیں فوری سرجری یا انجیو پلاسٹی کی ضرورت ہے، انہیں نقد رقم جمع کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔اسپتال حکام کشمکش کا شکار ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ حکومت بدلنے کے بعد 'صحت ساتھی' کے بقایاجات کی ادائیگی ہوگی یا نہیں، یا پھر یہ اسکیم مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔بی جے پی اپنی انتخابی مہم میں بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی مرکزی حکومت کی 'آیوشمان بھارت' اسکیم نافذ کرے گی۔ عوامی حلقوں میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ کیا 'صحت ساتھی' کو ختم کر کے فوری طور پر نئی اسکیم لائی جائے گی یا پرانے کارڈز کی میعاد برقرار رہے گی۔ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی واضح گائیڈ لائن جاری نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں اور اسپتالوں کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ سب کی نظریں اب کل ہونے والی نئی کابینہ کی حلف برداری اور اس کے بعد ہونے والے پالیسی فیصلوں پر ٹکی ہیں۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ