Bengal

پرائمری میں 32 ہزار نوکریاں بحال رکھنے کے خلاف سپریم کورٹ نے عرضی قبول کر لی

پرائمری میں 32 ہزار نوکریاں بحال رکھنے کے خلاف سپریم کورٹ نے عرضی قبول کر لی

مغربی بنگال میں پرائمری اسکولوں کے 32 ہزار اساتذہ کی نوکریاں منسوخ کرنے سے متعلق کیس کی عرضی سپریم کورٹ نے قبول کر لی ہے۔ پیر کے روز جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ستیش چندر شرما کے بینچ نے اس معاملے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ کیس کی سماعت اگست کے تیسرے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے۔ کولکتہ ہائی کورٹ نے 2014 میں شروع ہونے والے بھرتی کے عمل کے ذریعے مقرر کیے گئے 32 ہزار اساتذہ کی نوکریاں بحال رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف اصل درخواست گزار اور نوکریوں سے محروم رہ جانے والے امیدواروں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا، اور اب سپریم کورٹ نے ان کی یہ اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ واضح رہے کہ کولکتہ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے 32 ہزار حاضر سروس پرائمری اساتذہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ تمام 32 ہزار اساتذہ بدعنوانی میں ملوث تھے۔ بدعنوانی کا اصل ذریعہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ بینچ کا کہنا تھا کہ چند 'نااہل' اساتذہ کی وجہ سے تمام پرائمری اساتذہ کو نوکریوں سے محروم کرنا درست نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کے بعد محروم امیدواروں نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments