مغربی بنگال میں بی جے پی کی نئی حکومت نے اپنی پہلی ہی کابینہ میٹنگ میں ریاست کے 'ڈیموگرافک چینج' (آبادیاتی تبدیلی) اور دراندازی کے مسئلے پر بڑے فیصلے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے وعدوں کو پورا کرنے کی سمت قدم بڑھا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ ریاست کی آبادی کا تناسب تیزی سے بدل رہا ہے، جسے روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانا ناگزیر ہے۔حکومت نے بی ایس ایف کو باڑ لگانے کے لیے زمین فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ عمل لینڈ ریونیو سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کی نگرانی میں 45 دنوں کے اندر مکمل کیا جائے گا۔یہ فیصلہ امت شاہ کے بتائے ہوئے 'Detect-Delete-Deport' (شناخت کرو، نکالو اور واپس بھیجو) کے اصول کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد دراندازی سے پاک بنگال بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے سماجی اسکیموں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم وضاحت جاری کی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کوئی بھی جاری سماجی اسکیم بند نہیں کی جائے گی۔شوبھیندو ادھیکاری نے واضح کیا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی 'غیر ہندوستانی' (درانداز) ان سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ مردہ افراد کے نام پر جاری فوائد کو روکنے کے لیے تمام اسکیموں کی سخت جانچ کی جائے گی، تاکہ حقدار شہریوں تک ہی امداد پہنچے۔ بی جے پی قیادت کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے اس خواب کو پورا کریں گے جس میں بنگال کو بیرونی اثرات اور غیر قانونی دراندازی سے محفوظ رکھنے کا تصور دیا گیا تھا۔ سابقہ حکومت پر زمین کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے نئی حکومت نے پہلے ہی دن مرکز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ