پانی ہاٹی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی انتخابی حکمت عملی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ اس بار انہوں نے پولرائزیشن یا دراندازی جیسے روایتی مسائل کے بجائے مضافاتی علاقوں کے متوسط طبقے اور شہری ترقی کو اپنا ہدف بنایا۔ پانی ہاٹی کی تقریر کے دوران مودی جی نے کم از کم 10 بار "دم دم" کا نام لیا۔ ماہرین اسے شہری اور مضافاتی علاقوں کے متوسط طبقے کے ووٹروں کو لبھانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتری، ٹیکس ڈھانچے میں سہولت اور شہر کے مضافاتی علاقوں کو مرکزی شہر سے بہتر طریقے سے جوڑنے کا وعدہ کیا۔ مودی جی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی بدولت ڈیٹا سستا ہوا ہے، جس سے ہر متوسط خاندان کے ماہانہ 4 سے 5 ہزار روپے بچ رہے ہیں۔ آر جی کر واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ماں نے اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنایا تھا لیکن ترنمول کے "جنگل راج" نے اسے چھین لیا۔ انہوں نے ممتا بنرجی کے اس مبینہ بیان پر تنقید کی کہ خواتین کو شام کے بعد باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ مودی جی نے یقین دلایا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی تمام فائلیں کھولی جائیں گی اور مکمل انصاف ہوگا۔وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 سالوں میں ترنمول کانگریس نے کولکتہ سمیت ریاست کے تمام شہروں، صنعتوں اور ترقیاتی منصوبوں کو برباد کر دیا ہے۔ پانی ہاٹی میں بی جے پی امیدوار رتنا دیبناتھ (متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ) کی حمایت میں دی گئی یہ تقریر خواتین کے تحفظ اور شہری ترقی کے گرد گھومتی رہی، جو دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے بی جے پی کے نئے بیانیے کی عکاسی کرتی ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ