چندرکونا27فروری : عدالت نے حکم دیا تھا، اور اس حکم کی تعمیل میں پولیس اور انتظامیہ کے حکام مکان گرانے پہنچے تھے، لیکن انہیں مکینوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر والے روتے ہوئے پولیس کے پاوں پڑ گئے اور گھر کے سامنے 'انسانی دیوار' بن کر کھڑے ہو گئے۔ انتظامیہ کے حکام نے بار بار سب سے ہٹنے کی درخواست کی، لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخر کار عدالتی حکم کے باوجود پولیس اور انتظامی حکام کو مکان گرائے بغیر ہی واپس لوٹنا پڑا۔ یہ واقعہ جمعرات کو مغربی مدنی پور کے چندرکونا میں پیش آیا۔ چندرکونا میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 3 کے علاقے ایودھیا کے رہائشی سری کانت رانا، مدھو سودن رانا اور رادھا رمن رانا کی جگہ پر طویل عرصے سے کئی خاندانوں کے قابض ہونے کا الزام ہے۔ رانا خاندان نے اپنی جگہ واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ گھاٹال کورٹ کے سول جج سینئر ڈویڑن نے دو مکانات کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم پر عمل درآمد کے لیے چندرکونا تھانے کی پولیس، چندرکونا بلاک-2 کے بی ڈی او اتپل پائک اور عدالتی عملہ موقع پر پہنچا اور مکینوں کو ایک گھنٹے کے اندر گھر خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا۔ تاہم، وہاں مقیم سکومار داس اور نیتی داس کے خاندانوں نے مزاحمت کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بائیں بازو (لیفٹ فرنٹ) کے دور حکومت میں انتظامیہ نے اس جگہ کو 'خاص' (سرکاری زمین) قرار دیا تھا اور وہ گزشتہ 40 سالوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنی کوئی زمین یا جائیداد نہیں ہے، اگر گھر توڑ دیا گیا تو وہ کہاں جائیں گے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں عدالتی حکم کا اچانک علم ہوا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف اپیل کر رکھی ہے، اس لیے فی الحال مکان نہیں گرایا جا سکتا۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا