پانی ہاٹی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کی اور ریاست کی بدحالی کا ذمہ دار ممتا حکومت کو ٹھہرایا۔ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد ترنمول کانگریس گھبرا گئی ہے اور اب وہ اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے غنڈوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مودی جی نے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 سالوں میں ترنمول نے مغربی بنگال کی صنعت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر آج بھی 150 سال پرانے نکاسی کے نظام پر منحصر ہے۔وی آئی پی روڈ اور جیسور روڈ کے ٹریفک جام نے دم دم کا دم گھونٹ دیا ہے، جبکہ مدھو پور جیسے علاقوں کے لوگ پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ہائی کورٹ کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات پر بار بار اظہارِ برہمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی کامیابی بتاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور میں 1 جی بی ڈیٹا 300 روپے میں ملتا تھا، جو اب صرف 10 روپے میں دستیاب ہے۔ اس سے متوسط طبقے کے ہر خاندان کے ماہانہ 4 سے 5 ہزار روپے بچ رہے ہیں۔وزیر اعظم نے صاف کہا کہ جب تک ترنمول اقتدار میں رہے گی، بنگال کے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی اور ریاست ترقی کی راہ پر واپس نہیں آ سکے گی۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ