دہلی کے جامع مسجد علاقے سے ہوڑہ کےپیل خانہ میں پروموٹر کے قتل کے مرکزی ملزم ہارون خان اور روہت حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہاوڑہ سٹی پولیس کے جاسوسوں نے جمعرات کی صبح انہیں دھر دبوچا۔ پولیس کے مطابق، قتل کی واردات کے بعد دونوں ملزمان کولکتہ سے بہار اور پھر وہاں سے دہلی فرار ہو گئے تھے۔ اب ان ملزمان کو سی آئی ڈی کے حوالے کیا جائے گا، جو اس قتل کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ہاوڑہ پولیس (شمال) کے سپرنٹنڈنٹ شیخ حبیب اللہ نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا۔ ریلوے اسٹیشنوں پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں یہ گرفتاری عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ اس کیس میں پولیس پہلے ہی تین افراد— محمد بلال عرف رنکو، محمد وکیل عرف منا، اور دلدار حسین کو گرفتار کر چکی ہے۔ منا کے گھر کے پانی کے ٹینک سے وہ اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا جو ہارون اور روہت نے فرار ہونے سے پہلے وہاں چھپایا تھا۔ مقامی ذرائع اور بی جے پی لیڈر امیش رائے کے مطابق، مقتول پروموٹر صوفیق خان اور مرکزی ملزم ہارون کبھی گہرے دوست تھے، لیکن جیل جانے اور ایک پرانے گولی باری کے واقعے کے بعد ان کے درمیان دشمنی پیدا ہو گئی تھی اور دونوں نے اپنے الگ الگ گینگ بنا لیے تھے۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا