فلتا میں زبردست ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ اونچی اونچی باتیں کر کے ماحول گرم کرنے والے 'پشپا' جہانگیر خان اچانک میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابھشیک بنرجی کی 'چھتر چھایا' میں انہوں نے مبینہ طور پر ڈائمنڈ ہاربر میں اپنی سلطنت قائم کر رکھی تھی۔ اقتدار کے نشے میں وہ اس قدر چور تھے کہ انہوں نے یوپی کے 'سنگھم' آئی پی ایس آفیسر اجے پال شرما تک کو دیکھ لینے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ منگل کی دوپہر وہی دبدبے والے جہانگیر اچانک 'کاغذی شیر' بن گئے۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے والے انداز میں کہا کہ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے خصوصی پیکیج دیا ہے، اس لیے میں اب الیکشن نہیں لڑوں گا۔ اس واقعے سے ترنمول کانگریس کو شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد اپنی ساکھ بچانے کے لیے ترنمول کیمپ نے عجلت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اپنے بیان میں ترنمول نے کہا ہے، "فلتا کے دوبارہ انتخاب سے جہانگیر خان کے دستبردار ہونے کا فیصلہ مکمل طور پر ان کا ذاتی ہے۔ پارٹی نے یہ فیصلہ نہیں لیا۔ 4 مئی کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے صرف فلتا سیٹ پر ہی ترنمول کے سو سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دن دیہاڑے خوف و ہراس پھیلا کر پارٹی کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، انہیں بند کر دیا گیا اور ان پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے باوجود، بار بار شکایتیں کرنے پر بھی الیکشن کمیشن سب کچھ دیکھ کر انجان بنا ہوا ہے۔ ان تمام دباو کے باوجود ترنمول کارکنان ڈٹے ہوئے ہیں۔ مختلف ایجنسیوں اور انتظامیہ کے ذریعے بی جے پی نے خوف کا جو ماحول پیدا کیا ہے، کارکنان اس کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، آخر کار کچھ لوگوں نے دباو کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے میدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔" ترنمول نے مزید لکھا، "ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بنگال مخالف بی جے پی کے خلاف ہماری لڑائی مغربی بنگال اور دہلی دونوں جگہوں پر جاری رہے گی۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ