Bengal

این آئی اے کی درخواست منظور، بیلڈانگہ بدامنی کیس میں گرفتار ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

این آئی اے کی درخواست منظور، بیلڈانگہ بدامنی کیس میں گرفتار ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

بچار بھون میں بیلڈانگہ کیس کی سماعت کے دوران جمعرات کو پولیس سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ جمع کرائی۔ تفتیشی افسر بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔ امتحانات کی وجہ سے پولیس کی جانب سے ملزمان کو سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے 31 ملزمان کو ورچوئلی (ویڈیو لنک کے ذریعے) پیش کیا گیا۔ دیگر پانچ گرفتار افراد کے نابالغ ہونے کی وجہ سے انہیں سماعت میں پیش نہیں کیا گیا۔ این آئی اے (NIA) کی جانب سے ملزمان کو جیل کی تحویل میں رکھنے کی درخواست کی گئی۔ این آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ابھی تمام دستاویزات موصول نہیں ہوئی ہیں، اس لیے انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں رکھا جائے۔ عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے ملزمان کو 19 فروری تک جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 17 فروری کو ہوگی۔ جمعرات کی سماعت کے دوران ریاست کے وکیل نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے این آئی اے اس کیس کو لینے کے لیے سرگرم ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں مرشد آباد کے تارکِ وطن مزدور علاؤ الدین شیخ کی موت کی خبر کے بعد بیلڈانگہ میں بدامنی پھیل گئی تھی۔ 16 جنوری کو جب علاؤ الدین کی لاش وہاں پہنچی تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دوسرے ریاستوں میں مغربی بنگال کے مزدوروں کی موت کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ الزام تھا کہ بنگالی ہونے کی وجہ سے علاؤ الدین کو بنگلہ دیشی سمجھ کر قتل کیا گیا، حالانکہ جھارکھنڈ پولیس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے ابتدائی طور پر خودکشی قرار دیا تھا۔ اس احتجاج میں قومی شاہراہ بلاک کی گئی، ٹائر جلائے گئے اور سیالدہ-لالگولہ ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔ بیلڈانگہ میں اس دن ایک خاتون صحافی پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس نے بعد میں عدالت میں دعویٰ کیا کہ پہلے دن کا احتجاج بڑی حد تک خود بخود ہوا تھا، لیکن دوسرے دن منصوبہ بند طریقے سے بدامنی پھیلائی گئی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر مرکزی حکومت چاہے تو این آئی اے سے اس واقعے کی تحقیقات کروا سکتی ہے۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ نے تحقیقات مرکزی ایجنسی کے سپرد کر دیں۔ ریاست نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی، لیکن بدھ کو سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ این آئی اے کی تحقیقات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملزمان کے خلاف 'یو اے پی اے' (UAPA) کی دفعہ 15 کے اطلاق سے متعلق فیصلہ کرے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران جب جج نے پوچھا کہ کیا سماعت پر کوئی حکمِ امتناع ہے، تو ریاست کے وکیل نے کہا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں آئی ہے۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments