مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ریاست کے تقریباً 5 لاکھ کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کے درمیان اپنی ملازمتوں کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ سوک والینٹیئرز، ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور چپراسی جیسے عہدوں پر کام کرنے والے عارضی ملازمین اس بات پر فکر مند ہیں کہ آیا نئی حکومت انہیں برقرار رکھے گی یا نوکری سے نکال دے گی۔ عارضی ملازمین کے واٹس ایپ گروپس میں اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ "کیا نوکری رہے گی؟ ریاست میں سرکاری اسامیوں کی تعداد تقریباً 6 لاکھ ہے، جبکہ مستقل ملازمین کی تعداد صرف 3 لاکھ 17 ہزار ہے۔ ایسے میں انتظامی کام چلانے کے لیے حکومت ان 5 لاکھ عارضی ملازمین پر مکمل طور پر منحصر ہے۔ممتا بنرجی کی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت ان عارضی ملازمین کو 60 سال کی عمر تک کام جاری رکھنے کی ضمانت دی گئی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ مراعات کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔نئی حکومت کے قیام کے بعد ان لاکھوں خاندانوں کی نظریں اب نئی پالیسیوں پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا ان کی ملازمتیں محفوظ رہیں گی یا نہیں۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ