مغربی بنگال کے سابق گورنر سی وی آنند بوس اور ممتا بنرجی کی حکومت کے درمیان بھی کئی بلوں کی منظوری (جیسے کہ 'اپراجیتا بل' یا یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کا بل) کو لے کر کھینچا تانی جاری رہی ہے۔ چونکہ آر این روی تمل ناڈو میں بلوں کو روکنے کے معاملے میں خاصے تجربہ کار ہیں اور قانونی لڑائیوں سے پیچھے نہیں ہٹتے، اس لیے کولکتہ پہنچ کر وہ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں۔اگر انہیں کسی فائل میں ذرا سی بھی انتظامی یا قانونی خامی نظر آئی، تو وہ اسے روکنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ممتا بنرجی بھی اپنے موقف پر ڈٹی رہنے کے لیے جانی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں راج بھون اور 'نبانّا' (ریاستی سیکرٹریٹ) کا ٹکراو سی وی آنند بوس کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ 'تکنیکی' اور 'قانونی' شکل اختیار کر سکتا ہے۔نریندر مودی اور امت شاہ کے انتہائی قریبی اور معتمد سمجھے جانے والے روی کو بنگال بھیجنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرکز اب ریاستی انتظامیہ پر براہِ راست اور کڑی نگرانی رکھنا چاہتا ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا