بنگال کی تاریخ کے اوراق میں فلتا کا علاقہ ہمیشہ سے ہی انتہائی حساس اور اہم رہا ہے۔ مئی 2026 کا مہینہ ہو یا جون 1756 کا دور، فلتا جس طرح بار بار سرخیوں میں ابھر کر آتا ہے، اس نے تاریخ دانوں کی دلچسپی کو ہمیشہ بڑھایا ہے۔ آخر فلتا کی اس مٹی میں کون سا ایسا واقعہ چھپا ہوا ہے؟ سال 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے گرما گرم ماحول میں بھی فلتا قلعے کی یہ مٹی سیاسی طور پر انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اس قلعے کے داخلی دروازے پر موجود مقامی برسرِ اقتدار پارٹی کے دفتر کو لے کر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان شدید سیاسی ٹکراو اور اقتدار کی جنگ آج فلتا کو مسلسل خبروں میں رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، اس سیاسی گہما گہمی کے پیچھے ایک انتہائی قدیم تاریخ دبی ہوئی ہے۔ 1756 میں جب بنگال کے خود مختار نواب سراج الدولہ نے انگریزوں کو کولکتہ سے مار بھگایا تھا، تب ایسٹ انڈیا کمپنی کے اعلیٰ حکام نے خواتین اور بچوں کے ساتھ دریائے بھاگیرتھی کے بہاو کی سمت اسی فلتا میں آکر پناہ لی تھی۔ اس وقت چنچڑہ کے ڈچ (اولندازی) گورنر آڈرین بسڈم نے بپھرے ہوئے نواب کے غصے سے بچنے کے لیے انگریزوں کو اپنے قلعے کے اندر پناہ تو نہیں دی تھی، لیکن انہیں اپنے قلعے کے پاس بحری جہاز لنگر انداز کرنے کی اجازت دی اور خفیہ طور پر ہر طرح کی امداد اور رسد فراہم کی تھی۔
Source: PC-tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ