Bengal

نئی ہٹی کے بڑو ماں کے مندر میں خصوصی اہمیت نہیں ہوگی

نئی ہٹی کے بڑو ماں کے مندر میں خصوصی اہمیت نہیں ہوگی

ریاست میں سیاسی تبدیلی کی لہر اب نئی ہٹی کے مشہور اور عقیدت کے مرکز ’بڑو ماں‘ مندر تک پہنچ گئی ہے۔ نئے سیاسی حالات میں مندر کی انتظامی کمیٹی میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کے مطابق، 14 مئی کو ’نئی ہٹی بڑو کالی پوجا کمیٹی ٹرسٹ‘ کا ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے، جس میں پرانی کمیٹی کو ختم کر کے نئے چہروں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ نئی کمیٹی کا مقصد مندر کے انتظام میں مزید شفافیت اور ڈسپلن لانا ہے۔نئی ہٹی سے بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی سومترا چٹوپادھیائے نے ایک بڑا اعلان کیا ہے جس سے عام لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے: انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب مندر میں کسی کو بھی خصوصی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، "چاہے کوئی سلیبریٹی ہو یا کوئی اور، کسی کو الگ سے اہمیت نہیں ملے گی۔"گزشتہ چند سالوں میں عام عقیدت مندوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ تھا کہ وہ گھنٹوں لائنوں میں کھڑے رہتے تھے جبکہ سلیبریٹیز کو فوری درشن کرا دیے جاتے تھے۔ اب سے سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔بڑھتی ہوئی بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن اسمبلی نے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل تجاویز دی ہیں۔ اب پوجا کرنے والوں اور صرف درشن (زیارت) کرنے والوں کے لیے الگ الگ لائنوں کا انتظام کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ہگلی، ندیا، کولکتہ اور دیگر اضلاع سے آنے والے ہزاروں زائرین کی آسانی کے لیے پوجا کے عمل کو مزید منظم بنایا جائے گا۔ نہی ہاٹی کی بڑو ماں کا مندر 100 سال سے زیادہ قدیم ہے اور یہ لاکھوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔ کالی پوجا کے دوران یہاں انسانی سمندر امنڈ آتا ہے۔ انتظامیہ کی اس تبدیلی کو نہی ہاٹی کے لوگ ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں مذہب اور عقیدت میں ’خاص اور عام‘ کی تفریق ختم ہو جائے گی۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments