Bengal

نئی حکومت میں کیا سواستھ ساتھی کارڈ جاری رہے گی؟

نئی حکومت میں کیا سواستھ ساتھی کارڈ جاری رہے گی؟

ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد 'سواستھ ساتھی' اسکیم کے مستقبل کو لے کر شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کا براہ راست اثر مریضوں پر پڑ رہا ہے۔ نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں اس کارڈ کے ذریعے علاج فراہم کرنے کے حوالے سے تذبذب برقرار ہے، جس کی وجہ سے کئی جگہوں پر مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔کچھ اسپتال سواستھ ساتھی کارڈ قبول کر رہے ہیں، جبکہ کئی اسپتال "بیڈ خالی نہیں ہے" جیسے بہانے بنا کر مریضوں کو لوٹا رہے ہیں۔نجی اسپتالوں کا دعویٰ ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان کے کروڑوں روپے کے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ نئی بی جے پی حکومت کی پہلی کابینہ میٹنگ میں ہی 'آیوشمان بھارت' اسکیم کو بنگال میں نافذ کر دیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد نجی اسپتالوں کو خدشہ ہے کہ سواستھ ساتھی اسکیم بند ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ مزید مالی بوجھ اٹھانے سے کترا رہے ہیں۔پرائیویٹ نرسنگ ہوم اینڈ ہاسپٹل اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن' کے سکریٹری سید اشرف حسین نے واضح کیا ہے کہ تنظیم کی طرف سے علاج روکنے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہا، "ہم نے تمام ممبران سے کہا ہے کہ عام لوگوں کو علاج سے محروم نہ کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ نئی حکومت ہمارے بقایاجات ادا کر دے گی۔"ابھی تک کسی بھی ضلع کے چیف میڈیکل آفیسر یا حکومت کی طرف سے سواستھ ساتھی اسکیم کو منسوخ کرنے کا کوئی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں ہوا ہے۔اسکیم تکنیکی طور پر اب بھی نافذ العمل ہے، لیکن صرف قیاس آرائیوں اور بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کے خوف سے مریضوں کو در بدر ہونا پڑ رہا ہے۔مختصر یہ کہ جب تک نئی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا آیوشمان بھارت کے ساتھ اس کے انضمام کا اعلان نہیں کرتی، تب تک مریضوں اور اسپتالوں کے درمیان یہ کھینچ تان جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments