Bengal

مسلم علاقوں میں مسلمانوں کے ووٹ بکھر گئے جس کا فائدہ بی جے پی کو ملا

مسلم علاقوں میں مسلمانوں کے ووٹ بکھر گئے جس کا فائدہ بی جے پی کو ملا

مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ترنمول کانگریس کے روایتی ووٹ بینک یعنی مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی نے بڑی نقب لگائی ہے۔ ریاست میں اس بار پولرائزیشن (ووٹوں کی تقسیم) کی لہر نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ترنمول نے اس بار مجموعی طور پر 80 نشستیں جیتیں، جن میں سے 73 نشستیں وہ ہیں جہاں مسلم ووٹرز کا تناسب 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ یعنی ترنمول کی 91 فیصد جیت مسلم اکثریتی علاقوں سے آئی ہے۔ مسلم اکثریتی 146 نشستوں میں سے بی جے پی نے اس بار 66 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ 2021 میں اسے ایسی صرف 16 نشستیں ملی تھیں۔ مالدہ اور مرشد آباد جیسے اضلاع جہاں ترنمول کا یکطرفہ قبضہ تھا، وہاں اس بار مسلم ووٹ ترنمول، کانگریس، سی پی ایم اور آئی ایس ایف کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ اس کے برعکس، ہندو ووٹ بی جے پی کے حق میں غیر معمولی طور پر متحد ہو گئے۔ترنمول کے اس مضبوط گڑھ میں جہاں پچھلی بار بی جے پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا، اس بار بی جے پی نے 4 نشستیں جیت لی ہیں، جن میں ابھیشیک بنرجی کے حلقے کی 'سات گچھیا' سیٹ بھی شامل ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ بنگال میں ہندو ووٹوں کی ایسی یکجہتی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، یہاں تک کہ بی جے پی کی حکومت والی شمالی ریاستوں کے مقابلے میں بھی بنگال میں یہ رجحان زیادہ شدت سے ابھرا ہے۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments