Bengal

مسلسل بارش کی وجہ سے بنگال کے کئی علاقے متاثر، پہارٹی علاقو ں کے راستے منقطع

مسلسل بارش کی وجہ سے بنگال کے کئی علاقے متاثر، پہارٹی علاقو ں کے راستے منقطع

گزشتہ اکتوبر میں شمالی بنگال نے ایک خوفناک تجربہ دیکھا تھا۔ ۹ ماہ بعد ایک بار پھر عملاً وہی صورتحال ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے موسلا دھار بارش جاری تھی۔ جمعرات سے دریائے بالاسن میں طغیانی آ گئی۔ رات کو دریائے مہانندا کے فل باری بیراج کے گیٹ کھول دیے گئے۔ بالاسن میں پانی کی سطح مسلسل بڑھتی رہی۔ خوف کی تصدیق کرتے ہوئے عارضی دودھیا پل بہہ گیا۔ شلی گوڑی سے میرک تک رابطہ منقطع ہو گیا۔ اطلاع ہے کہ جمعرات کی شام سے جمعہ کی صبح تک پہاڑوں اور میدانی علاقوں میں تقریباً ۲۰۰ ملی میٹر بارش ہوئی۔ مختلف علاقوں میں درخت گر گئے۔ کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہے۔ اور پہاڑ کا مطلب ہے ملبہ! مسلسل بارش کے باعث قومی شاہراہ نمبر ۱۱۰ کی متعدد جگہوں پر ملبہ گر گیا۔ جس کی وجہ سے سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ہل کارٹ روڈ بند ہے۔ اس لیے اس وقت شلی گوڑی سے دارجلنگ کا رابطہ بھی بند ہے۔ ٹوئٹرین سروس بھی بند ہے۔کارشئنگ سے شلی گوڑی جانے والی تھری لین سڑک کے ایک حصے پر شدید ملبہ گرا ہے۔ اس کے علاوہ سڑک پر ایک بہت بڑا درخت بھی گر گیا ہے۔ جس کی وجہ سے آمد و رفت مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ سڑک صاف کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے، تاہم بارش کی وجہ سے کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بارش کی وجہ سے تبا کوشی کا عارضی پل بھی گر گیا۔ بھوٹان اور سکم کے پہاڑوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ ٹونگ میں بڑے پیمانے پر ملبہ گر گیا ہے۔ وقت کے ساتھ صورتحال خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔ لاچونگ اور زیرو پوائنٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر ابھی بارش نہ رکی تو شمالی بنگال کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کو سیلاب کا خدشہ ہے۔ کیا پھر سے اکتوبر جیسا انجام ہو گا؟ سبھی خوف میں مبتلا ہیں۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments