مرشد آباد کے ہری ہر پاڑہ میں ایک اور بی ایل او کی موت 'کام کے بوجھ' کی وجہ سے ہونے کا الزام سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ متاثرہ خاتون، 58 سالہ مایا مکھوپادھیائے، ایک اسکول ٹیچر تھیں جنہیں ہری ہر پاڑہ کے بوتھ نمبر 251 کی بی ایل او کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جمعہ کے روز وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔ ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی درستگی، سماعتوں (Hearings) اور فہرستیں تیار کرنے کے شدید ذہنی دباو میں تھیں۔ وہ اس بات سے بھی خوفزدہ تھیں کہ اگر لسٹ سے کسی کا نام کٹ گیا تو گاوں والے ان کے گھر پر حملہ کر دیں گے۔ اس واقعے پر سیاسی الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی ناقص منصوبہ بندی اور کام کے بے پناہ بوجھ کی وجہ سے بی ایل او حضرات کی جانیں جا رہی ہیں، جبکہ خاندان کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ اور بیمار ہونے کے باوجود انہیں انتظامی حکم کے تحت یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا