وزیراعظم نریندر مودی نے بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنانے کی اپیل کرتے ہوئے ریاست کے عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 'سونار بنگلہ' کا ہر شہری محرومی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ان کا دل بوجھل ہے۔ اس خط کا آغاز انہوں نے 'جے ماں کالی' لکھ کر کیا ہے۔ مودی کے لکھے گئے اس خط کا ایک ایک لفظ اور لائن بنگال کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھی دیکھا گیا تھا کہ 'جے شری رام' کے نعرے کو لے کر بنگال کی سیاست کس طرح گرم ہوئی تھی اور سیاسی تصادم عروج پر پہنچ گیا تھا۔ تنمول سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا بارہا یہ موقف رہا ہے کہ بنگال کی سیاست میں 'جے شری رام' کبھی قابل قبول نہیں رہا۔ اس کے جواب میں ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے 'جے ماں کالی' کا نعرہ لگانا شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ لوک سبھا میں کئی ترنمول ارکانِ پارلیمنٹ کو یہ نعرہ لگاتے دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیراعظم کو بھی بنگال میں جلسہ گاہوں میں 'جے ماں کالی' کا نعرہ لگاتے دیکھا گیا۔ اب اہل بنگال کے نام لکھے گئے اس خط میں وزیراعظم نے 'جے ماں کالی' ہی کا ذکر کیا ہے۔ خط میں انہوں نے سوامی وویکانند، رشی اربندو اور سبھاش چندر بوس سمیت بنگال کی عظیم ہستیوں (منیشیوں) کے تعاون کا بھی ذکر کیا ہے۔ ترنمول کی جانب سے ہمیشہ یہ مسئلہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت کو بنگال کی عظیم شخصیات کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے، لیکن وزیراعظم نے اس خط کا ایک پورا پیراگراف صرف ان مشاہیر کے ذکر کے لیے وقف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا ہے کہ بنگال کے لوگ محروم ہیں اور ان کی تکلیف سے وہ غمزدہ ہیں۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا