بی جے پی کے سینئر رہنما دلیپ گھوش نے اقلیتی بہبود کے محکمے کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی سخت اور دو ٹوک بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بنگال میں نئی حکومت کی تشکیل سے قبل ان کے ریمارکس ریاست کی بدلتی ہوئی سیاسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ محکمہ برقرار رہے گا اور بی جے پی کا کوئی مسلم ایم ایل اے نہ ہونے کی صورت میں وزیر کون بنے گا، تو انہوں نے کہا:"اقلیتوں کی کافی ترقی ہو چکی ہے، اب مزید کیا ترقی ہوگی؟"ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ برسوں میں صرف اقلیتوں کی ترقی پر توجہ دی گئی، اس کے باوجود وہ غریب، ناخواندہ اور جرائم میں ملوث ہیں۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا: "اقلیتوں کی ترقی کرنا بی جے پی کی ذمہ داری نہیں ہے، وہ ہمیں ووٹ بھی نہیں دیتے"۔محکمہ ختم کرنے کے سوال پر دلیپ گھوش نے کہا:وہ نہیں جانتے کہ محکمہ رہے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔تاہم، انہوں نے اشارہ دیا کہ "بہت سی نئی چیزیں شروع ہوں گی اور بہت سی پرانی چیزیں بند کر دی جائیں گی"۔انہوں نے آدیواسیوں اور قبائلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی تک پیچھے ہیں اور بی جے پی اب ان کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس' کے اصول پر چلے گی، نہ کہ کسی خاص طبقے کی خوشنودی کے لیے۔دلیپ گھوش کا یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی بی جے پی حکومت میں انتظامی ترجیحات اور اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ