مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ، وزراء اور ان کے اہل خانہ کے لیے نوانّہ (ریاستی سیکرٹریٹ) نے نئے اور سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ اب ریاست سے باہر علاج کرانے کے لیے پہلے کی طرح براہ راست فیصلہ نہیں لیا جا سکے گا۔ حال ہی میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور 'دی کولکتہ گزٹ' میں شائع ہونے والی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریاست سے باہر ملک کے کسی دوسرے ہسپتال میں علاج کروانا ہو تو اس کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری لینا لازمی ہوگا۔ انتظامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے اخراجات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ پورے عمل میں مزید شفافیت آئے گی۔ واضح رہے کہ بائیں بازو کے دورِ اقتدار میں اس وقت کے وزیر مانو مکھوپادھیائے کی جانب سے سرکاری خرچ پر ایک مہنگے چشمے کی قیمت لینے پر تنازع کھڑا ہوا تھا۔ موجودہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دور میں بھی وزیر ساوتری مترا کے ایک میڈیکل بل پر بحث ہوئی تھی۔ اب ریاستی حکومت نے وزراءکے علاج کے اخراجات کو منظم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس سے قبل ریاست سے باہر سرکاری خرچ پر علاج کے لیے ایسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے اس نئے قانون کو انتظامی لحاظ سے کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ نوانّہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ کئی وزراءکسی خاص بیماری کے بغیر ہی دوسری ریاستوں میں سالانہ طبی معائنے (چیک اپ) کروا کر بھاری رقم کے بل جمع کروا رہے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ کے اندر ان معاملات پر طویل بحث ہوئی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے زیرِ انتظام محکمہ داخلہ نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ