مشرق وسطیٰ کی جنگ کے جھٹکوں سے دارجلنگ اور سکم کی سیاحتی صنعت پر تباہی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی جانب سے بکنگ منسوخ کرنے کا تانتا بندھ گیا ہے۔ فرانس اور انگلینڈ کے بڑی تعداد میں سیاح دبئی میں پھنسے ہوئے ہیں، جو اپنا سفری شیڈول تبدیل کر کے واپس اپنے ملکوں کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، جنگ کے نتیجے میں ایندھن (تیل) کی مارکیٹ میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث گاڑیوں کے کرایے، ہوٹل کے اخراجات اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں۔ ان حالات میں ٹور آپریٹرز کو خدشہ ہے کہ موسم گرما کے سیزن میں ملکی سیاح بھی سکون سے دارجلنگ یا سکم کی سیر نہیں کر سکیں گے۔ سیاحتی اداروں کے ذرائع کے مطابق، یورپ کے مختلف ممالک سے ہر سال تقریباً 50 ہزار سیاح دارجلنگ اور سکم کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر سردیوں کے اختتام اور بہار کے موسم میں آنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت برف باری کی زیادہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں اور پہاڑ روڈوڈینڈرون سمیت مختلف پھولوں سے لدے ہوتے ہیں۔ ان سیاحوں کی بڑی تعداد سکم اور دارجلنگ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نیپال چلی جاتی ہے۔ مارچ کے پہلے ہفتے سے ان غیر ملکی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے، جو دبئی یا سنگاپور کے راستے بھارت پہنچتے ہیں۔ لیکن مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے سے اب تصویر مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ فرانس، انگلینڈ اور جرمنی سے کچھ سیاح روانہ تو ہوئے لیکن وہ دبئی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہ آنے پر وہ مزید خطرہ مول نہیں لینا چاہتے اور بکنگ کینسل کر کے اپنے وطن واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا