مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے لیے آج صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ بنگال میں دو مرحلوں میں پولنگ ہوگی اور آج پہلے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جب کہ تمل ناڈو میں ایک ہی مرحلے میں پولنگ ہونی ہے۔ دونوں ریاستوں میں شام 6 بجے ووٹنگ ختم ہو جائے گی۔ بنگال میں پہلے مرحلے میں 16 اضلاع کی 152 سیٹوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ وہیں تمل ناڈو اسمبلی کی تمام 234 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں پرامن اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی چار مئی کو ہوگی۔ مغربی بنگال میں اس بار الیکشن بدعنوانی، نوکریوں، شناخت، شہریت، ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے ناموں کو حذف کیے جانے جیسے ایشوز پر لڑا جا رہا ہے۔ صبح 11 بجے تک ریاست میں 41.11 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ ووٹنگ پسم میڈنی پور میں درج کی گئی۔ وہیں صبح 11 بجے تک 44.69 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ سب سے کم ووٹنگ مالدہ میں درج کی گئی۔ وہاں ووٹنگ کی شرح 38.22 فیصد رہی۔ دو مرحلوں پر مشتمل انتخابات کے ابتدائی مرحلے میں ریاست کی 294 نشستوں میں سے 152 سیٹوں کو شامل کیا گیا جن میں شمالی بنگال کے آٹھ اضلاع کی تمام 54 سیٹیں شامل ہیں۔ مرشد آباد، ندیہ، بیربھوم اور ہگلی جیسی اہم سیٹوں پر بھی آج پولنگ ہو رہی ہے۔ صبح کے ابتدائی گھنٹوں کے بعد ووٹنگ کی رفتار بڑھ گئی ہے، جو دونوں ریاستوں کے ووٹرس کے زبردست جوش اور جمہوری شراکت داری کو ظاہر کرتا ہے۔ پہلا مرحلہ اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا بی جے پی اب بھی شمالی بنگال پر اقتدار تک پہنچنے کے لیے اہم گیٹ وے کے طور پر بھروسہ کر سکتی ہے یا ٹی ایم سی اپنی کھوئی ہوئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ سوری سے کانگریس امیدوار سنجے ادھیکاری نے الزام عائد کیا ہے کہ ای وی ایم میں خرابی کے سبب صبح 7 بجے پولنگ مرکز پہنچنے کے باوجود وہ اپنا ووٹ نہیں ڈال پائے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے ضلع مجسٹریٹ اور مقامی پولنگ افسر سے شکایت درج کرا دی ہے، لیکن مشین کی مرمت ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سینکڑوں ووٹرس بوتھ کے سامنے قطار میں کھڑے ہیں اور یہاں کوئی الیکشن کمیشن کا نمائندہ نہیں ہے جو ہمیں بتا سکے کہ پولنگ کب دوبارہ شروع ہوگی۔‘‘ کوچ بہار شمال اسمبلی حلقہ کے 6 پولنگ مراکز پر ووٹنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر ووٹنگ مشینوں کی کنٹرول یونٹ خراب ہو گئی ہے، جبکہ کچھ مقامات پر وی وی پیٹ لاک ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تیاریوں میں کمی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ انگارکاٹا پرائمری اسکول واقع پولنگ مرکز (بوتھ نمبر 3/154) کا ہے۔ اس مرکز پر وی وی پیٹ لاک کیا گیا ہے۔ تقریباً 1.75 کروڑ خواتین سمیت 3.60 کروڑ سے زیادہ ووٹر آج اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے حفاظتی انتظامات کے تحت سنٹرل فورسز کی ریکارڈ 2,450 کمپنیاں تعینات کی ہیں جن میں 8,000 سے زیادہ پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
Source: social media
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ