مستاری بانو، مرشد آباد کے بھگوان گولہ کے بیلیا شیام پور گاوں کی ایک عام گھریلو خاتون، ان دنوں مغربی بنگال کی سیاست اور قانونی حلقوں میں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ایس آئی آر کے معاملے میں جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 4 فروری 2026 کو سپریم کورٹ میں خود جرح کر کے نظیر قائم کی، وہیں 9 فروری 2026 کو مستاری بانو بھی ایک عام شہری کی حیثیت سے سپریم کورٹ پہنچیں اور الیکشن کمیشن کے خلاف سینہ سپر ہوئیں۔ مستاری بانو کا مقدمہ "مستاری بانو بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا" کے نام سے درج ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اقلیتی برادری کی خواتین کے شناختی مسائل اور اینومریشن فارم میں تصاویر سے متعلق قانونی چیلنجز پیش کیے۔ ان کا موقف تھا کہ پردہ نشین خواتین کے لیے مذہبی روایات کے مطابق مخصوص انداز میں تصویر کھنچوانا ایک بڑا مسئلہ ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے عوامی تکالیف کو عدالت کے سامنے رکھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مستاری بانو کا کوئی براہ راست سیاسی پس منظر نہیں ہے، تاہم ان کے شوہر کمال حسین علاقے میں سی پی آئی ایم کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں آواز اٹھائی، تو سی پی آئی ایم نے فوری طور پر بیان جاری کیا کہ ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ جانے والی پہلی پٹیشنر مستاری بانو ہی تھیں۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں کہ کیا سی پی آئی ایم مستاری بانو کو اقلیتی محاذ پر اپنے نئے چہرے کے طور پر پیش کرے گی؟ اگرچہ مستاری بانو اسے محض اپنے حقوق کی لڑائی قرار دیتی ہیں، لیکن ان کی اس ہمت نے انہیں بنگال کی سیاست میں ایک اہم مقام دلا دیا ہے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا