کب 'سرخ قلعہ' (کمیونسٹ گڑھ) گھاس پھول (ترنمول) کے گڑھ میں تبدیل ہوا، سیاسی تجزیہ نگار بھی اسے بھانپ نہ سکے تھے۔ لیکن اب اسی گڑھ میں 'کمل' (بی جے پی) کھل گیا ہے۔ 2021 میں مشرقی بردھمان کی تمام 16 نشستوں پر ترنمول کا قبضہ تھا، لیکن 2026 میں کہانی بالکل الٹ گئی ہے۔ ضلع کی 16 میں سے 14 نشستوں پر بی جے پی فاتح رہی ہے اور ترنمول کا کیمپ بری طرح زمین بوس ہو گیا ہے۔ ترنمول کے قدآور لیڈروں سے لے کر وزراءتک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ترنمول صرف کھنڈ گھوش اور بردھمان شمال میں ہی جیت درج کر سکی ہے۔ سیاسی حلقوں میں مانا جا رہا ہے کہ اس بار 'سائلنٹ ووٹرز' (خاموش ووٹرز) سب سے بڑا فیکٹر ثابت ہوئے ہیں۔ ترنمول کی اس حالت اور بی جے پی کی اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں:حکومت مخالف لہر : 15 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد حکومت کے خلاف ایک لہر پیدا ہو چکی تھی، جس کا اثر ووٹ بینک پر پڑا۔ مختلف گھوٹالوں کے الزامات اور نچلی سطح کے مقامی لیڈروں کے تکبر نے عوام کو بیزار کر دیا تھا۔ مسلسل انتخابی مہم کے نتیجے میں ووٹوں کی فرقہ وارانہ صف بندی نے بھی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔ووٹر لسٹوں کی درستی کے دوران بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کو بھی ترنمول کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ترنمول کے اندرونی اختلافات اور 'اندرونی تخریب کاری' نے بھی اسے نقصان پہنچایا۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ