وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کے روز الیکشن کمیشن، کانگریس اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن کے درمیان مبینہ ”خفیہ مفاہمت“ پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ مغربی بنگال میں انتخابی گہما گہمی کے درمیان ممتا بنرجی کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اسٹالن اور ممتا کو عام طور پر ’انڈیا‘ اتحاد کے قریبی ساتھیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ممتا بنرجی نے براہ راست ایم کے اسٹالن کا نام لیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کی ان کے ساتھ کوئی ’انڈر اسٹینڈنگ‘ ہے۔ ”آپ نے سب کو تمل ناڈو بھیج دیا ہے! تمل ناڈو سے اتنی محبت! یقیناً اندر ہی اندر کانگریس اور اسٹالن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہوا ہے۔“ممتا بنرجی مغربی بنگال سے آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو مبصر بنا کر دوسرے ریاستوں میں بھیجے جانے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، لیکن نشانہ صرف بنگال کو بنایا جا رہا ہے۔کل 510 افسران کو مبصر کے طور پر ہٹایا گیا، جن میں سے تقریباً 500 صرف مغربی بنگال سے ہیں، جبکہ باقی چار ریاستوں سے صرف 10 افسران لیے گئے ہیں۔ممتا نے سوال اٹھایا، ”کیا آپ کو لگتا ہے کہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش سے آکر بیرونی لوگ یہاں ووٹنگ کروائیں گے؟“ کولکتہ کے سابق پولیس کمشنر سپرتیم سرکار کو تمل ناڈو بھیجے جانے پر ممتا نے جذباتی انداز میں کہا کہ ”سپرتیم سرکار، جن کے دو معذور بچے ہیں، انہیں آپ نے تمل ناڈو بھیج دیا! آپ کو شرم نہیں آتی؟ آپ نے مغربی بنگال کے تمام افسران کو نکال کر تمل ناڈو بھیج دیا ہے۔“
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ