ندیا: ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کے تحت ریاست میں 90 لاکھ سے زائد ناموں کے اخراج پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے مل کر ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت بعض مخصوص برادریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چن چن کر متوا، راج بنشی اور اقلیتی برادریوں کے نام نکالے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ”دیکھ دیکھ کر ایک ایک کمیونٹی کو نکالا جا رہا ہے۔ متوا، راج بنشی اور اقلیتی برادریوں کے ناموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“ انہوں نے بنگال میں بی جے پی کو 'صفر' پر لانے کا مطالبہ کیا۔ پیر کی رات جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 60 لاکھ 6 ہزار زیرِ غور ووٹرز میں سے 27 لاکھ 16 ہزار 393 کے نام خارج کر دیے گئے، جبکہ 32 لاکھ 68 ہزار نام شامل ہوئے۔ اس سے قبل 28 فروری کو بھی 63 لاکھ سے زیادہ نام نکالے گئے تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 91 لاکھ نام لسٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ممتا بنرجی نے دراندازی کے معاملے پر بی جے پی کے مرکزی قائدین مودی اور شاہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال کیا:”درانداز کون ہیں؟ سرحدوں کی حفاظت کون کرتا ہے؟ اگر کوئی 2024 میں آئے تو آپ اسے CAA دے دیتے ہیں، لیکن جو برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان کے نام کاٹ دیے جاتے ہیں۔ یہ امتیازی سلوک کیوں؟“جہاں بی جے پی 'ایس آئی آر' کو قومی سلامتی اور ووٹر لسٹ کی صفائی کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، وہیں ترنمول کانگریس اسے وفاقی ڈھانچے پر حملہ اور بنگالیوں و اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی سازش قرار دے رہی ہے۔ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ووٹرز کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور وہ اس کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گی۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ