مالدہ کے کالیاچک تشدد کیس میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں مرکزی تحقیقاتی ایجنسی NIA اب اس کیس کے اہم ملزم مفکر الاسلام کو اپنی تحویل میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے قبل انہیں سی آئی ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے سخت پہرے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفکر الاسلام نے کہا کہ وہ NIA کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے میں ریاستی وزیر سابینا یاسمین کا کوئی ہاتھ ہے، تو انہوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ایم آئی ایم کے امیدوار رضا الکریم نے براہِ راست سابینا یاسمین پر نشانہ سادھتے ہوئے انہیں اس پورے واقعے کا 'ماسٹر مائنڈ' قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس شخص (مفکر) کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اصل کھلاڑی نہیں ہے، بلکہ سابینا یاسمین کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔مفکر الاسلام کے وکلاء نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے مفکر کو 'ماسٹر مائنڈ' بنا کر جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ مفکر الاسلام اور موٹھاباری سے آئی ایس ایف امیدوار شاہجہان علی قادری پر قومی شاہراہ بلاک کرنے، لوگوں کو اکسانے، توڑ پھوڑ اور آگ زنی جیسے الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ مفکر فی الحال ایک کیس میں عدالتی تحویل اور دوسرے کیس میں پولیس تحویل میں ہیں۔ این آئی اے انہیں اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کرنا چاہتی ہے تاکہ اس تشدد کے پیچھے چھپے وسیع تر محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔کالیاچک کا یہ واقعہ انتخابی موسم میں مالدہ کی سیاست کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکمراں ترنمول کانگریس پر سازش کا الزام لگا رہی ہیں۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ