Bengal

کیا ٹریبونل سے 'پاس' ہونے والے منسوخ ووٹرز اس بار ووٹ دے سکیں گے؟

کیا ٹریبونل سے 'پاس' ہونے والے منسوخ ووٹرز اس بار ووٹ دے سکیں گے؟

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ پہلے ہی 'فریز' ہو چکی ہے۔ زیرِ غور ناموں میں سے بہت سے نام فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔ اگر یہ لوگ ٹریبونل کے فیصلے کے بعد دوبارہ قانونی ووٹر کے طور پر تسلیم کر لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ آنے والے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے؟ سپریم کورٹ پیر کے روز اس حوالے سے اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ ریاست میں ٹریبونل کا کام بھی پیر سے ہی شروع ہو رہا ہے۔ ریاست میں دو مرحلوں میں پولنگ ہونی ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے ووٹر لسٹ 6 اپریل کو فریز کر دی گئی تھی، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے 9 اپریل کو فریز کی گئی۔ قانون کے مطابق، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے آخری دن کی رات 12 بجے تک جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہوں گے، صرف وہی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی اصول کے تحت فہرست کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ تاہم، جن لوگوں کے نام جانچ کے مرحلے میں تھے، ان میں سے بہت سے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ یہ منسوخ شدہ ووٹرز اپنی شکایات ٹریبونل میں درج کرا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی بنچ میں یہ سوال پہلے ہی اٹھ چکا ہے کہ کیا وہ ووٹرز، جو ٹریبونل سے کلیئرنس حاصل کر لیں گے، ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے یا نہیں؟قانونی پیچیدگی یہ ہے کہ ایک بار ووٹر لسٹ فریز ہو جانے کے بعد اس میں تبدیلی مشکل ہوتی ہے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ ایسے ووٹرز کا حقِ رائے دہی ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوگا، لیکن کیا وہ اسی انتخابات میں ووٹ دے سکیں گے، اس پر عدالت غور کرے گی۔ قابلِ ذکر ہے کہ آئین کی دفعہ 142 کے تحت سپریم کورٹ کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ ان اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عدالت عوامی مفاد میں کوئی بھی حکم دے سکتی ہے۔ اگر ٹریبونل سے منظور شدہ ووٹرز کو اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دینی ہے، تو سپریم کورٹ کو اپنے اسی خصوصی اختیار کا استعمال کرنا ہوگا۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments