مغربی بنگال حکومت نے بین الاقوامی یومِ مادری زبان سے قبل ایک بڑا سیاسی اور سماجی قدم اٹھاتے ہوئے کڑمالی اور راج بنشی زبانوں کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو باضابطہ درخواست بھیجی ہے۔قومی سطح پر دو پسماندہ قبائل کی شناخت اور وقار کو بڑھانے کے لیے مغربی بنگال حکومت نے مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ راج بنشی اور کڑمالی زبانوں کو دستور کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرے۔ فروری، جمعرات کو ریاست کی چیف سکریٹری نندنی چکرورتی نے مرکزی ہوم سکریٹری کو دو الگ الگ خطوط ارسال کیے ہیں۔ زبان کے ساتھ ساتھ، نوانا (ریاستی سیکرٹریٹ) نے پانچویں بار مرکز کو 'ساری' اور 'سارنا' مذاہب کو تسلیم کرنے کی اپنی سفارش بھی یاد دلائی ہے، جو گزشتہ پانچ سالوں سے زیرِ التوا ہے۔بنگال کے علاوہ جھارکھنڈ، اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں بھی کڑمی برادری بڑی تعداد میں آباد ہے، لیکن بنگال پہلی ریاست ہے جس نے کڑمالی زبان کے لیے یہ تجویز بھیجی ہے۔ جنگل محل کی کڑمی تنظیموں نے اسے ایک بڑا قدم قرار دیا ہے، حالانکہ کچھ تنظیموں نے سوشل میڈیا پر تنقید بھی کی ہے۔ریاستی حکومت کے اس اقدام کو انتخابات سے قبل ایک 'ماسٹر اسٹروک' قرار دیا جا رہا ہے:ممتا بنرجی کی حکومت نے 2018 میں ہی راج بنشی اور کڑمالی کو ریاست کی سرکاری زبانیں قرار دے دیا تھا۔حال ہی میں اجیت مہتو کی قیادت میں 'آدیواسی کڑمی سماج' نے اعلان کیا تھا کہ اگر مرکز کڑمالی زبان کو آٹھویں شیڈول میں شامل کرتا ہے تو وہ بی جے پی کی حمایت کریں گے۔ اب ریاست نے گیند مرکز کے پالے میں ڈال کر سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔سابق وزیر اور ٹی ایم سی لیڈر شانتی رام مہتو کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ شروع سے ہی ان قبائل کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور اس سفارش سے راج بنشی اور کڑمی برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا