Bengal

کھلی جگہوں پر جانوروں کا ذبیحہ قابلِ سزا جرم ہے‘،

کھلی جگہوں پر جانوروں کا ذبیحہ قابلِ سزا جرم ہے‘،

مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ ، 1950 پر سختی سے عمل درآمد کے لیے ریاستی حکومت نے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ کلکتہ ہائی کورٹ کے 6 اگست 2018 کے فیصلے اور اس سے متعلق 8 جون 2022 کی حکومتی ہدایات کی پیروی میں جاری کیا گیا ہے۔ریاست کے قانونی مذبح خانوں کو ان ہدایات پر ’سختی سے عمل‘ کرنے کا حکم دیتے ہوئے آٹھ نکاتی نوٹیفکیشن میں درج ذیل باتیں کہی گئی ہیں:(1) کوئی بھی شخص کسی جانور (یعنی سانڈ، بیل، گائے، بچھڑا، نر و مادہ بھینس اور بھینس کا بچھڑا) کو ذبح نہیں کر سکے گا، جب تک کہ اسے متعلقہ جانور کے ذبیحہ کے لیے موزوں ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل نہ ہو۔(2) کسی میونسپلٹی کا چیئرمین یا پنچایت سمیتی کا صدر اور ایک سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر مشترکہ طور پر کسی جانور کے ذبیحہ کی موزونیت کا سرٹیفکیٹ جاری کر سکتے ہیں۔ اگر وہ تحریری طور پر یہ رائے دیں کہ جانور محنت طلب کام یا افزائش نسل کے لیے 14 سال سے زیادہ عمر کا ہو چکا ہے، یا عمر، چوٹ، معذوری یا کسی بیماری کی وجہ سے مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا ہے، تو وہ ذبیحہ کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔ (3) اس طرح کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کی صورت میں، متاثرہ شخص انکار کی اطلاع ملنے کے 15 دن کے اندر ریاستی حکومت کو اپیل کر سکتا ہے۔(4) جس جانور کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے، اسے صرف میونسپلٹی کے مذبح خانے یا مقامی انتظامیہ کے مقرر کردہ کسی دوسرے مذبح خانے میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔(5) جن جانوروں کے لیے ذبیحہ کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے، انہیں کسی بھی کھلی عوامی جگہ پر ذبح کرنا سخت ممنوع ہے۔(6) مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ، 1950 کے قواعد نافذ کرنے کے مقصد سے، میونسپلٹی کے چیئرمین، پنچایت سمیتی کے صدر، یا سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کے ذریعے مجاز کردہ کسی بھی شخص کے معائنے (مذبح خانے) میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکے گا۔(7) مندرجہ بالا قانونی قواعد میں سے کسی کی بھی خلاف ورزی کی صورت میں، متعلقہ شخص کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قید یا زیادہ سے زیادہ 1,000 روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ 1950 کے قانون کے تحت تمام جرائم 'سنگین' تصور کیے جائیں گے۔(8) معزز سپریم کورٹ اور معزز کلکتہ ہائی کورٹ کے اس سلسلے میں متعلقہ فیصلے حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments