جنگل محل کے علاقے میں نیشنل ہائی وے کو عبور کر کے ہاتھیوں کا غول روزانہ گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک تھم جاتی ہے اور ڈرائیوروں و مسافروں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہاتھیوں کے لیے ایک محفوظ 'ایکو پیسج' یا انڈر پاس تعمیر کیا جا رہا تھا تاکہ ہاتھی نیچے سے گزر سکیں اور گاڑیاں اوپر ہائی وے سے۔ لیکن کام مکمل ہونے سے پہلے ہی اس زیرِ تعمیر پل کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔جھارگرام کے گپت منی علاقے میں نیشنل ہائی وے 49 پر یہ حادثہ پیش آیا۔ لنٹر ڈالنے (ڈھلائی) کے چند ہی گھنٹوں بعد پل کا حصہ گر گیا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہاتھیوں کا ایک غول وہاں سے گزر رہا تھا۔ ان کے مطابق ہاتھیوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے تعمیراتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔مقامی لوگوں اور ماہرین نے اس دعوے پر شک ظاہر کیا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تعمیراتی سامان کا معیار اتنا کمزور تھا کہ وہ ابھی سے گر گیا؟ اگر ہاتھیوں کے گزرنے سے ہی پل گر رہا ہے، تو مستقبل میں اس کی پائیداری کیا ہوگی؟ منصوبہ تقریباً 50 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس 100 میٹر طویل اور 7 میٹر اونچے انڈر پاس کی تعمیر کا کام 2025 سے جاری ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ