مالدہ کے کالیا چک میں ججوں کو طویل عرصے تک محصور رکھنے اور ان کی بازیابی میں تاخیر کے واقعے نے اس وقت عدالتی اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق چیف جسٹس دیباشیش کر گپتا اور ممتاز وکیل وکاس رنجن بھٹاچاریہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے اس واقعے میں انتظامیہ کی ناکامی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بدھ کی سہ پہر 4 بجے سے کالیا چک-2 بلاک کے بی ڈی او آفس میں سات ججوں (جن میں تین خواتین شامل تھیں) کا گھیراو کیا گیا۔ رات 12 بجے کے بعد پولیس اور مرکزی فورسز نے انہیں وہاں سے نکالا۔ سابق چیف جسٹس کا سوال: انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں جج صرف SIR کے عمل کی نگرانی کر رہے تھے اور نام خارج کرنے میں ان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا، وہاں انہیں اس طرح کی ہراساںی کا نشانہ کیوں بننا پڑا؟ انتظامیہ کو انہیں نکالنے میں 8 گھنٹے کیوں لگے؟ ان کے بقول، جیسے ہی ہجوم جمع ہوا تھا، انتظامیہ کو فوری طور پر سرگرم ہو کر انہیں نکالنا چاہیے تھا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس واقعے کو 'انتظامیہ کی مکمل ناکامی' قرار دیا ہے۔ مغربی بنگال کے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری، ڈی جی پی اور مالدہ کے ڈی ایم اور ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات CBI یا NIA سے کرانے پر غور کرے۔
Source: PC- sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ