لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران جھاڑگرام آ کر جس دکاندار کی دکان سے وزیر اعظم نریندر مودی نے جھال موڑی کھائی تھی، اس جھال موڑی بیچنے والے وکرم کمار ساو کو موبائل، واٹس ایپ اور میسجز پر مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ وکرم کا الزام ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کئی نمبروں سے ان کے موبائل پر دھمکیاں بھیجی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ واٹس ایپ ویڈیو کال پر ہتھیار دکھا کر بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے وکرم اور ان کا خاندان شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ ڈر کی وجہ سے انہوں نے دکان بند کر کے روپوشی اختیار کر لی تھی۔ بالآخر جھاڑگرام تھانے میں اس سلسلے میں ایک تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے۔ پولیس اور سائبر کرائم کے ماہرین نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جن نمبروں سے فون یا میسج آئے تھے، انہیں ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مذکورہ دکاندار اور ان کے خاندان کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ 19 اپریل کو جھاڑگرام میں انتخابی جلسے کے بعد واپسی کے دوران راج کالج موڑ کے رہائشی وکرم کی دکان پر اچانک وزیر اعظم کا قافلہ رک گیا تھا۔ وہاں گاڑی سے اتر کر مودی نے ان کے ہاتھ کی بنی جھال موڑی کھائی تھی، جس نے ریاستی سیاست میں کافی ہلچل مچا دی تھی۔ جنگل محل میں اس بار بی جے پی کی بھاری جیت کے تناظر میں، پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس دھمکی کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد چھپا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ